تقدیر پھوٹا
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - جس کی قسمت خراب ہو، بدنصیب۔ "حق الامر یہ ہے کم بخت ازلی بدنصیب اور سدا کے تقدیر پھوٹے تھے" ( ١٩١٨ء، ماہ عجم، ٥ )
اشتقاق
عربی زبان کے لفظ 'تقدیر' کے ساتھ 'پھوٹنا' مصدر سے حالیہ تمام 'پھوٹا' جو کہ اردو میں بطور اسم صفت بھی مستعمل ہے، لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩١٨ء کو "ماہ عجم" میں استعمال ہوا۔
مثالیں
١ - جس کی قسمت خراب ہو، بدنصیب۔ "حق الامر یہ ہے کم بخت ازلی بدنصیب اور سدا کے تقدیر پھوٹے تھے" ( ١٩١٨ء، ماہ عجم، ٥ )